ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو پولیس کمشنر کا بیان : بولیار مسجد کے پاس اشتعال انگیز نعروں کی وجہ سے ہوئی چاقو زنی 

منگلورو پولیس کمشنر کا بیان : بولیار مسجد کے پاس اشتعال انگیز نعروں کی وجہ سے ہوئی چاقو زنی 

Wed, 12 Jun 2024 13:40:36    S.O. News Service

منگلورو،  12/ جون (ایس او نیوز) سٹی پولیس کمشنر انوپم اگروال کے مطابق بی جے پی کے دوران جشن فتح کے طور نکالے گئے جلوس کے دوران مسجد کے پاس اشتعال انگیز نعرے لگانے اور مسلمانوں کو 'پاکستانی' ہونے کا طعنہ دینے کے نتیجہ میں چاقو زنی کی واردات پیش آئی جس میں دو بی جے پی کارکنان زخمی ہوگئے ۔
    
پولیس کمشنر اگروال نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 'بھارت ماتا کی جئے' جیسے نعرے لگانے کی وجہ سے نہیں بلکہ جلوس کے وقت مسجد سے نصف کلو میٹر دور ایک آٹو رکشہ اسٹینڈ کے پاس کھڑے ہوئے مسلمانوں کی طرف اشارہ کرکے بی جے پی کارکنان کا یہ کہنا کہ " تم لوگ پاکستانی ہو، مودی کی جیت سے تم خوف زدہ ہوگئے ہو" مسلم نوجوانوں کو غصہ دلانے کا سبب ہوا ۔ پھر جب یہ جلوس مسجد کے سامنے پہنچا تو ڈی جے میوزک کی آواز بڑھا دی گئی اور رقص کرتے ہوئے بی جے پی کارکنان نے اشتعال انگیز نعرے لگائے ۔ 
    
پولیس کمشنر کے بیان کے مطابق جلوس ختم ہونے کے بعد بھی کچھ  نوجوان دو پہیہ گاڑیوں پر سوار ہو کر مسجد کے پاس آئے اور جشن مناتے رہے ۔ اس وقت چند لوگوں نے ان کا پیچھا کیا اور پھر چاقو زنی کی واردات پیش آئی ۔ 
    
بعض لوگوں کی طرف سے مسجد کے سامنے اشتعال انگیز نعرے بازی کرنے اور مسجد کے پاس کھڑے ہوئے لوگوں کو گالیاں دینے کے سلسلے میں مسجد کمیٹی کے صدر کی طرف سے پولیس کے پاس شکایت درج کروائی گئی ہے ۔ کوناجے پولیس نے اس ضمن میں کیس درج کر لیا ہے ۔
    
پولیس کمشنر کی طرف سے بتایا گیا کہ چاقو زنی کے الزام میں پولیس نے 20 افراد کو حراست میں لیا تھا ۔ ان میں سے چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن کے نام محمد شاکر، عبدالرزاق، ابوبکر صدیق، سواد اورمونو عرف حفیظ  کے علاوہ ابوبکر صوان ہے جو ایک معروف غنڈہ ہے اور اسی نے چاقو گھونپنے کی واردات انجام دی ہے ۔
    
پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کے لئے تین خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں ۔ 


Share: